حقِ رسائی برائے معلومات

پیش عملی انکشاف

وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کا جائزہ

تعارف

وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم، پنجاب 1960 میں گورنر کی معائنہ ٹیم کے طور پر قائم کی گئی۔ نظام حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کا نام بدل دیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق یہ گورنر معائنہ ٹیم، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر معائنہ ٹیم اور وزیر اعلی معائنہ ٹیم کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ فی الحال یہ چیف منسٹر کی معائنہ ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔

اس وقت معائنہ ٹیم ایک چیئرمین اور سات ممبران (پانچ جنرل ممبرز اور دو ممبران انجینئرنگ) پر مشتمل ہے۔ ٹیم کے کام کو منظم کرنے کے لئے لاہور شہر کے مختلف محکمے/اضلاع/ ٹاؤنز مختلف ممبران کو مختص کئے گئے ہیں۔ ٹیم کا ہر رکن وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے ذریعے انکوائریوں/تحقیقات کے علاوہ باقاعدگی سے ماہانہ معائنہ کرتا ہے۔ سی ایم آئی ٹی میں انکوائریاں منصفانہ، فوری اور غیر جانبداری سے کی جاتی ہیں اور مناسب کارروائی کے لیے رپورٹ بمع سفارشات  وزیر اعلیٰ کو پیش کی جاتی ہے۔

منتظم اعلی یا چیف ایگزیکٹو ٹیم کو تفویض کردہ کاموں کی تکمیل میں ممبران اور ان کے عملے کی محنت اور لگن سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ وزیر اعلی معائنہ ٹیم کی ذمہ داریوں کی وضاحت حکومت پنجاب کے رولز آف بزنس، 1974 میں کی گئی ہے۔ وزیر اعلی معائنہ ٹیم صوبے کے وزیر اعلیٰ/چیف ایگزیکٹو کی آنکھ اور کان کا کام کرتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو  ہی اپنی معائنہ ٹیم کو تحریک و ترغیب دیتا ہے اور اس کی کارکردگی اس بات پر منحصر رہی ہے کہ  چیف ایگزیکٹو کی خدمات کو کیونکر بروئے کار لاتا ہے۔ 

نصب العین اور مقصد

وزیر اعلی معائنہ ٹیم کا نصب العین اور مقصد انتظامیہ، جائزہ، پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا،  مفاد عامہ کے مسائل کا نوٹس لینا،  انتظامی خرابیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں چیف ایگزیکٹو کو معاونت کی فراہمی اور  "گڈ گورننس" کو یقینی بنانے کے مقصد کے  حصول کے لئے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کی بہتری کے لیے تدارک کے اقدامات تجویز کرنا ہے۔ مختصراً وزیر اعلی معائنہ ٹیم صوبے کے وزیراعلیٰ/چیف ایگزیکٹو کی آنکھ اور کان کا کام کرتی ہے۔ 

فرائض و ذمہ داریاں

وزیر اعلی معائنہ ٹیم کی اہم ذمہ داریاں ذیل میں درج ہیں:

  • مندرجہ ذیل مقاصد کے تحت صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کریں:
    •  کہ ترقیاتی منصوبوں کی مناسب منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ان پر موثر کوالٹی کنٹرول کے ساتھ موثر، تیز رفتار اور معاشی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے عملدرآمد کیا گیا ہے اور لاپرواہی و غفلت برتنے والے اہلکاران/محکموں کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش کی جائے گی
    • کہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق حکومت کی ہدایات / احکامات پر پوری طرح عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اور
    • کہ نیشنل بلڈنگ کے محکموں کے اہلکار اور ٹھیکیدار اپنے فرائض، ذمہ داریاں اور کام صحیح اور موئثر طریقے سے انجام دے رہے ہیں
  • اس بات کی یقین دہانی کہ آیا تمام سرکاری محکمے بشمول پولیس، خود مختار/نیم خودمختار ادارے، کارپوریشنز اور مقامی ادارے اپنے فرائض/کام کو موئثر طریقے اور تیزی سے انجام دے رہے ہیں یا نہیں، ان اداروں/ایجنسیوں کا معائنہ کرنا  یا معائنہ کرانا اورسنجیدہ مشاہدات کو حکومت کے نوٹس میں لا کر بہتر ی کے لئے سفارشات پیش کرنا
  • حکومت/ مفادِ عامہ کو متاثر کرنے والے کسی بھی اہم معاملے کا نوٹس لینا اور مناسب کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا اور اسے غور و فکر/ احکامات  کے لئے وزیر اعلیٰ کو پیش کرنا
  • سنگین/فوری نوعیت کی شکایات پر غور کرنا اور انہیں متعلقہ حلقوں تک پہنچانا  تاکہ جلد از جلد نمٹا جا سکے یا براہ راست تفتیش/تحقیقات کرائی جائیں جیسا کہ مناسب ہو
  • وزیر اعلی کے حکم کے تحت خصوصی امور، جو اس چارٹر میں متعین نہ کئے گئے ہوں، انجام دینا
  • اس سلسلے میں معائنہ ٹیم کی کسی بھی درخواست یا مطلوبہ معاونت کی فراہمی کے لئے تمام متعلقہ افراد فوری عمل درآمد کو ممکن بنائیں گے
  • دیگر محکمے وزیرِ علیٰ کی پیشگی اجازت سے معائنہ ٹیم کو مخصوص ذمہ داریاں تفویض کر سکتے ہیں
  • چیئرمین، وزیرِاعلی کی معائنہ ٹیم اپنی رپورٹس براہ راست وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی، متعلقہ محکموں/ اہلکاران کو کاپیاں دی جا سکتی ہیں ماسوائے ان کے جو خفیہ نوعیت کی ہوں
  • وزیر اعلی معائنہ ٹیم محکمہ انسداد بدعنوانی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گی اور ایسے کیسز جو محکمہ انسدادِ بد عنوانی کے ذریعے نپٹانا مناسب ہوں، ان کے حوالے کرے گی
  • بجٹ، اکاؤنٹس اور آڈٹ کے معاملات
  • محکمہ کے لیے اسٹورز اور کیپٹل گڈز کی خریداری
  • ملازمت کے امور ما سوائے جو محکمہء سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن  کو سونپے گئے ہوں

طریقہ کار

وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کا طریقہءکار ذیل میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

  • وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم  کو مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی شکایات سے نمٹنا
  • وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم  کومختلف ذرائع سے شکایات آتی ہیں؛ ان میں وزیر اعلیٰ کی طرف سے آنے والی انکوائریاں (سی ایم کی ہدایت)، وزیرِ اعلی سیکرٹریٹ سے آنے والی انکوائریاں یا محکمے کی سمری شامل ہے جس کآ آغاز محکمہ خود کرتا ہے اور وزیر اعلیٰ کی  منظوری حاصل کی جاتی ہے
  • انکوائری وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کے ڈائری سیکشن میں موصول ہوتی ہے یہاں سے وہ چیئرمین وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کو بھیجی جاتی ہیں
  • چیئرمین شکایت کا جائزہ لیتا ہے اور اسے کسی ایک ممبر کو تفویض کرتا ہے
  • ممبر ہر شکایت پر اچھی طرح سے کارروائی کرتا ہے اور انکوائری کے مقام پر جا کر بذاتِ خود اس کا جائزہ لے سکتا ہے اور شکایت سے متعلقہ کاغذی کارروائی کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ مختلف ذرائع سے جمع کی گئی معلومات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں مشاہدات اور نتائج کے ساتھ تجزیہ، نتیجہ، مجوزہ اقدامات اور وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کی طرف سے دی گئی سفارشات بھی شامل کی جاتی ہیں
  • اس کے بعد تفصیلی رپورٹ چیئرمین وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کو منظوری کے لیے بھیجی جاتی ہے جو رپورٹ میں اپنی سفارشات اور تبدیلیاں شامل کر سکتے ہیں یا اگر رپورٹ تسلی بخش نہ ہو تو اسے مزید انکوائری اور تجزیہ کے لیے ممبر کو واپس بھیجا جا سکتا ہے
  • چیئرمین وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم کی منظوری کے بعد رپورٹ وزیراعلیٰ کو بھجوا دی جاتی ہے، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ رپورٹ کا جائزہ لے کر ضروری کارروائی (اگر ہو)  کرنے کا حکم دیتا ہے
  • اگر وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن ہوں تو جو کارروائی کی جائے گی اسے فوری طور پر متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دیا جائے گا
  • کیس صرف اسی وقت بند کیا جاتا ہے جب متعلقہ اتھارٹی وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم  کو جواب بھیجتی ہے کہ کارروائی کر لی گئی ہے۔ دوسری صورت میں  کیس زیرِ کاروائی رہتا ہے

شکایات/معلومات کی اقسام

وزیر اعلی معائنہ ٹیم کی طرف سے جن شکایات کا ازالہ کیا گیا اور ان پر کام کیا گیا ان کا تفصیلی خاکہ ذیل میں دیا گیا ہے:

  • وزیراعلیٰ کی ہدایات
  • وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے حوالہ جات
  • وزیر برائے وزیر اعلی معائنہ ٹیم کی ہدایات
  • نیب شکایات
  • محکمانہ شکایات
  • خصوصی ذمہ داریاں
  • عوامی شکایات
  • میگا پروجیکٹ کا معائنہ

سرکاری اداے کا بجٹ

  • بجٹ برائے سال2021 تا 2022

نوٹ: کسی قسم کی معلومات/سوالات کے لئے وزیرِ اعلی معائنہ ٹیم سے دئیے گئے ای میل پتہ یا رابطہ نمبر کے ذریعے رابطہ کریں۔